بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ابنا؛ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سابق کمانڈر انچیف میجر جنرل محسن رضائی نے جمعہ کی شب دزفول کے حسینیہ ثاراللہ میں مرکزی خاتم الانبیاء(ص) ہیڈکوارٹر کے شہید کمانڈر شہید لیفٹیننٹ جنرل غلام علی رشید اور ان کے شہید بیٹے حجت الاسلام امین عباس رشید کی پہلی برسی کی تقریب میں، اس شہید کمانڈر کے مرتبے کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا: شہید رشید میرے لئے ایک گہرے دوست اور بھائی تھے جو ناقابلِ فراموش ہیں، ان کی متعدد خدمات کے باوجود، ابھی تک معاشرے میں انہیں ـ جیسا کہ ان کا حق ہے ـ متعارف نہیں کرایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ شہادت اس عظیم کمانڈر کی دیرینہ آرزو تھی؛ انقلاب سے پہلے اور بعد کے حساس ادوار میں حالات کی درست تشخیص اور بروقت اقدام شہید رشید کی ممتاز خصوصیات میں سے تھیں۔ وہ ان شخصیات میں سے تھے جنہوں نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جہاد کا حق بھی بہترین طریقے سے ادا کیا۔
رضائی نے زور دے کر کہا: ملک کے بچوں اور نوجوان نسل کو شہید رشید کی ذاتی اور انتظامی جہات سے مزید آگاہ کرنا چاہئے اور ایسی موثر شخصیت کو گمنامی میں نہیں رہنے نہیں دینا چاہئے۔
ان کا کہنا تھا کہ خاتم الانبیاء(ص) ہیڈکوارٹر کے شہید کمانڈر کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: آج اسلامی جمہوریہ کی میزائل، ڈرون اور فوجی قوت کا ایک اہم حصہ شہید رشید کی کمان اور مناسبت اقدامات کا ثمرہ ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتوں کے سامنے ایران کا استحکام بھی ان کی اور ملک کے دیگر عظیم کمانڈروں کی کوششوں کے مرہون منت ہے۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سابق کمانڈر انچیف میجر جنرل محسن رضائی نے کہا:
• اسلامی جمہوریہ کی دفاعی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہؤا ہے۔
• ایران پہلا ملک ہے جو امریکہ کے جدید F-35، F-15 لڑاکا طیاروں اور آواکس تباہ کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔
• غیر متناسب جنگ کو سپاہ پاسداران کا اختراع ہے۔
• غیر متناسب جنگ میں، چند ہزار ڈالر والے ڈرون کئی ملین ڈالر والے میزائلوں پر غالب آتے ہیں، اور سستی تیز رفتار کشتیاں کئی ارب ڈالر والے طیارہ بردار بحری جہازوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر لیتی ہیں۔
• حالیہ جنگ نے عالمی سطح پر اسلامی جمہوریہ کی طاقت میں اضافہ کر دیا، اور اگر یہ حملہ نہ ہوتا تو دنیا کے بہت سے لوگ ایران کی مسلح افواج اور عوام کی صلاحیت اور قوت سے آگاہ نہ ہوتے۔

• اس جنگ کے ثمرات نے عالمی قواعد اور فارمولوں میں اسلامی جمہوریہ کا مقام بلند کر دیا ہے۔
• اتحاد، استقامت اور اللہ پر توکل دشمنوں کے خلاف ایران کی کامیابی کے تین اہم عوامل ہیں اسی لئے دشمن ملک کے اندر اختلافات پیدا کر کے حاصل شدہ فتوحات کو شکست میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
• دشمن کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی قیمت مزاحمت و استقامت سے کہیں زیادہ ہے، ایرانی عوام کی استقامت نے بین الاقوامی میدان میں ملک کی ساکھ اور وقار میں اضافہ کیا ہے۔
• استقامت نے ایران کو امریکہ اور صہیونی ریاست کے سامنے دباؤ، خطرات اور تقسیم کے خطرے سے محفوظ رکھا ہے، اور ساتھ ہی یہ دنیا میں موجود بدترین دھاروں اور دھڑوں کا مقابلہ سمجھا جاتا ہے۔

• آج امریکی قوم، اس ملک کے فیصلہ سازی کے مراکز میں صہیونی ریاست کے اثر و رسوخ اور لابنگ کے بموجب، عملی طور پر اسرائیل کی محکوم قوم بن چکی ہے اور امریکہ صہیونیوں کی نوآبادی بن چکا ہے۔
• رہبرِ شہید نے اپنی شہادت سے ساتھ، ایرانی قوم کے دوبارہ عروج کا راستہ ہموار کیا، اور یہ مشن انسانیت کی نجات تک جاری رہے گا۔

• ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے 24 بلین ڈالر کے منجمد اثاثوں کی آزادی پر رضامندی ظاہر کی ہے لیکن وہ اس معاملے کا کھل کر اعلان نہیں کرتا۔
• اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی صلاحیتیں آج عروج پر ہیں۔
• ملک کی ڈیٹرنس صلاحیت اس سطح پر پہنچ گئی ہے کہ جوا باز ٹرمپ آج ایران سے مذاکرات سے بھی خوفزدہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ